برطانیہ: بلڈ پریشر و گردے کی بیماری کی مخصوص دوا کے حوالے سے الرٹ جاری

برطانیہ: بلڈ پریشر اور گردے کی بیماری کی دوا ’’رامیپرل‘‘ کے حوالے سے الرٹ جاری، متاثرہ بیچ واپس منگوانے کی ہدایت

لندن: برطانیہ کے محکمہ صحت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں نے ہائی بلڈ پریشر، گردے کی بیماری اور دل کے امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی معروف دوا ’’رامیپرل‘‘ (Ramipril) کے ایک مخصوص بیچ کے حوالے سے اہم حفاظتی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام نے مریضوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ دوا کو فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق رامیپرل برطانیہ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی ادویات میں شامل ہے اور ہر ماہ اس دوا کے تقریباً 30 لاکھ نسخے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ دوا بنیادی طور پر ہائی بلڈ پریشر، گردے کی بیماری، دل کی کمزوری اور بعض دیگر قلبی امراض کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دل کے دورے کے بعد بھی متعدد مریضوں کو یہ دوا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ خون کی روانی بہتر رہے اور دل پر اضافی دباؤ کم ہو۔

میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (MHRA) کے مطابق مسئلہ دوا تیار کرنے والی کمپنی کریسنٹ فارما لمیٹڈ کی ایک مخصوص کھیپ میں سامنے آیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض پیکٹس میں تجویز کردہ مقدار سے زیادہ خوراک والی اسٹرپس شامل ہو سکتی ہیں، جو مریضوں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

ریگولیٹری ادارے نے متاثرہ بیچ کی شناخت کے لیے پیکجنگ پر درج کوڈ GR155023 جاری کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس اس کوڈ والا پیک موجود ہو تو وہ فوری طور پر اپنی فارمیسی یا جی پی (جنرل پریکٹیشنر) سے رابطہ کریں۔ حکام نے مریضوں کو ہدایت کی ہے کہ دوا کے ساتھ موجود معلوماتی کتابچہ اور باقی ماندہ کیپسول بھی اپنے ساتھ لے کر جائیں تاکہ مناسب مشورہ اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق دوا کی ضرورت سے زیادہ مقدار استعمال کرنے سے چکر آنا، سر ہلکا محسوس ہونا، بے ہوشی جیسی کیفیت، غیر معمولی تھکن اور گردوں کے افعال میں خرابی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ محکمہ صحت نے مریضوں سے احتیاط برتنے اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے کی تاکید کی ہے۔

More News