پشاور: بنوں اور شمالی وزیرستان میں پولیو کے دو نئے کیسز کی تصدیق، مجموعی تعداد 3 ہوگئی
پشاور:کاشف عارف
خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے دو نئے کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 3 تک پہنچ گئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے ٹارگٹڈ اقدامات اور مؤثر حکمتِ عملی پر عمل جاری ہے۔ ادارے نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج مرض ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے اس سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے۔
حکام کے مطابق پولیو سے تحفظ کے لیے ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں تاکہ اس مہلک بیماری سے محفوظ رہا جا سکے۔
نیشنل ای او سی نے مزید بتایا کہ رواں ماہ ملک بھر کے مخصوص اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کی جائے گی۔ اس مہم کے دوران تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت، صحت کے ادارے اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، وہاں ویکسی نیشن کی کوریج کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بار بار ویکسینیشن اور آگاہی مہمات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکمت عملی پر سختی سے عمل کیا جائے تو پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متعلقہ اضلاع میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور صحت کے عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔








