بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضامند

بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضامند

اسلام آباد: بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کے الزامات پر میٹا 16.7 ارب ڈالر کے جرمانے کی ادائیگی پر رضامند ہوگئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق میٹا پر الزام تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام نے کم عمر صارفین کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر مصروف رکھنے کے لیے ایسے طریقہ کار استعمال کیے، جن سے بچوں میں سوشل میڈیا کے استعمال کی عادت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

تصفیے کے بعد بچوں پر سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے متعلق ایک بڑے وفاقی مقدمے کا اختتام ہوگیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت میٹا کو اپنی سروسز میں کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے اہم تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

معاہدے کے مطابق 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کی روزانہ خودکار حد 2 گھنٹے مقرر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کم عمر صارفین کے لیے نائٹ موڈ متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک ایپس خودکار طور پر بلاک رہیں گی۔

تصفیے میں جرمانے کی ادائیگی سے متعلق بھی ایک منفرد شرط رکھی گئی ہے۔ میٹا فوری طور پر جرمانے کی رقم کا 70 فیصد ادا کرے گی، جبکہ باقی 30 فیصد، جو تقریباً 5.3 ارب ڈالر بنتا ہے، مخصوص شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگا۔

شرائط میں ٹک ٹاک اور الفابیٹ کی ملکیت یوٹیوب کی جانب سے کم عمر صارفین کے لیے روزانہ ایک گھنٹے کی خودکار استعمال کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔ اس صورت میں دونوں کمپنیوں کو تقریباً 5.3، 5.3 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق جرمانے سے حاصل ہونے والی رقم متعلقہ ریاستوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی، جبکہ ادائیگی 10 سال کے دوران سالانہ اقساط میں کی جائے گی۔

یہ پیش رفت کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال، آن لائن تحفظ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داریوں سے متعلق جاری عالمی بحث میں اہم قرار دی جا رہی ہے۔

More News