بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں، انہیں پورا کرنے کا ہنر بھی رکھتی ہیں، نایاب کی کہانی

پشاور کی نایاب نے مردوں کے مخصوص سمجھے جانے والے شعبے میں اپنی پہچان بنا لی، لیپ ٹاپ مرمت اور سافٹ ویئر کی ماہر بن گئیں

پشاور سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت نوجوان نایاب نے ثابت کردیا کہ کامیابی کا تعلق جنس سے نہیں بلکہ محنت، لگن اور صلاحیتوں سے ہوتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایسے شعبے میں عملی قدم رکھا جہاں عموماً مردوں کی اکثریت نظر آتی ہے۔ آج وہ نہ صرف لیپ ٹاپس کی مرمت کرتی ہیں بلکہ سافٹ ویئر سے متعلق مختلف تکنیکی خدمات بھی فراہم کر رہی ہیں۔

نایاب کا تعلق پشاور سے ہے اور کمپیوٹر و ٹیکنالوجی سے ان کی دلچسپی نویں جماعت سے شروع ہوئی۔ ابتدا میں یہ محض ایک شوق تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اسے اپنے مستقبل کا پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایف اے اور ایف ایس سی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور خوشحال خان خٹک یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد نایاب نے اپنے شوق کو عملی شکل دیتے ہوئے پشاور کے گل جی پلازہ میں لیپ ٹاپس کی مرمت اور سافٹ ویئر کے کام کا آغاز کیا۔ ان کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ اس شعبے میں زیادہ تر دکانوں، ورکشاپس اور تکنیکی مراکز پر مرد کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک خاتون کا لیپ ٹاپس کی مرمت جیسے تکنیکی شعبے میں کام کرنا لوگوں کے لیے غیر معمولی بات تھی۔

نایاب کے مطابق عملی زندگی کے آغاز میں انہیں مختلف سماجی رویوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض صارفین صرف اس وجہ سے ان سے کام کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے کہ وہ ایک خاتون ہیں اور شاید تکنیکی مسائل حل کرنے کی مطلوبہ مہارت نہ رکھتی ہوں۔ تاہم انہوں نے ان رویوں کو اپنی راہ میں رکاوٹ بنانے کے بجائے اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے پر توجہ دی۔

نایاب کا کہنا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلسل سیکھنا، عملی تجربہ حاصل کرنا اور اپنی مہارتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے مشکلات کے باوجود محنت جاری رکھی اور وقت کے ساتھ اپنی فنی صلاحیتوں کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جو لوگ ابتدا میں ان سے کام کروانے میں ہچکچاتے تھے، وہ بھی اپنی تکنیکی ضروریات کے لیے ان سے رجوع کرتے ہیں۔

اپنے اس سفر میں نایاب اپنے والدین کے تعاون کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں۔ ان کے مطابق والدین نے کبھی انہیں لڑکی ہونے کی وجہ سے کسی مخصوص شعبے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہمیشہ اپنے شوق کو پیشہ بنانے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر والوں کا اعتماد اور تعاون انہیں مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا رہا۔

نایاب کے پاس آنے والی خواتین صارفین کی بھی بڑی تعداد ہے۔ ان کے مطابق خواتین اپنے لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کی مرمت کے لیے انہیں ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ اپنے ذاتی ڈیٹا اور نجی معلومات کے حوالے سے ان کے پاس زیادہ اطمینان محسوس کرتی ہیں۔ اس طرح وہ اپنی فنی مہارت کے ساتھ خواتین صارفین کے لیے اعتماد اور سہولت کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں۔

نایاب دوسری لڑکیوں کو پیغام دیتی ہیں کہ دوسروں کی باتوں اور تنقید سے مایوس ہونے کے بجائے اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ان کے مطابق زندگی میں مختلف مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، لیکن اگر انسان ابتدا ہی میں ہمت ہار دے تو کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نایاب کی کہانی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ محنت، مستقل مزاجی، تعلیم اور خود اعتمادی کے ذریعے خواتین ٹیکنالوجی سمیت کسی بھی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔ ان کا سفر ان لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہے جو روایتی سوچ اور سماجی رویوں سے ہٹ کر اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتی ہیں۔

More News