سہ فریقی سیریز میں ناکامی کے بعد بابر اعظم کو آرام اور بیرون ملک کوچنگ لینے کا مشورہ

سہ فریقی سیریز میں ناکامی کے بعد بابر اعظم کو آرام اور بیرون ملک کوچنگ لینے کا مشورہ

پانچ میچز میں صرف 118 رنز بنانے والے قومی بیٹر پر سابق کرکٹرز کی تنقید، بعض نے آسٹریلیا یا انگلینڈ میں کوچنگ حاصل کرنے کی تجویز دے دی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کو فائنل میں شکست دے کر سہ فریقی ون ڈے سیریز کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا، تاہم ٹیم کی کامیابی کے باوجود سابق کپتان اور اسٹار بلے باز بابر اعظم کی بیٹنگ فارم ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ حالیہ ٹورنامنٹ میں غیر متاثر کن کارکردگی کے بعد سابق پاکستانی کرکٹرز کی جانب سے انہیں مختلف مشورے دیے جا رہے ہیں، جن میں کچھ عرصہ آرام کرنے اور بیرون ملک کوچنگ حاصل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

بابر اعظم نے حالیہ سہ فریقی سیریز کے پانچ میچز میں مجموعی طور پر 118 رنز اسکور کیے۔ ان کی سب سے بڑی اننگز 45 رنز کی رہی جبکہ وہ پورے ٹورنامنٹ میں کوئی نصف سنچری بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

سیریز کے افتتاحی میچ میں سری لنکا کے خلاف بابر نے 45 رنز بنائے، جبکہ انگلینڈ کے خلاف دو مقابلوں میں ان کے اسکور بالترتیب 34 اور 10 رنز رہے۔ سری لنکا کے خلاف چوتھے میچ میں انہوں نے 29 رنز بنائے، تاہم فائنل میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی اور وہ پانچ گیندیں کھیلنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔

بابر اعظم گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے نمایاں بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد یادگار اننگز کھیلیں، جن میں 2019 ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ناقابل شکست 101 رنز، 2021 میں انگلینڈ کے خلاف برمنگھم میں 158 رنز اور 2023 ایشیا کپ میں نیپال کے خلاف 151 رنز کی اننگز شامل ہیں۔

تاہم حالیہ سیریز میں ان کی کارکردگی نے ایک مرتبہ پھر ان کی فارم اور بیٹنگ میں تسلسل کے حوالے سے سوالات پیدا کردیے ہیں۔ سابق کرکٹرز کی جانب سے ان پر تنقید کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی تکنیک اور کھیل کے انداز پر دوبارہ کام کرنے کے مشورے بھی دیے جا رہے ہیں۔

بعض سابق کھلاڑیوں کے مطابق بابر اعظم کو کچھ وقت کے لیے کرکٹ سے آرام لے کر اپنی بیٹنگ پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ انہیں آسٹریلیا یا انگلینڈ میں کسی معیاری کوچ سے تربیت حاصل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

دوسری جانب بابر اعظم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ ایک تجربہ کار اور باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور ماضی میں اپنی کارکردگی سے کئی مرتبہ خود کو منوا چکے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بابر اعظم اپنی حالیہ فارم میں بہتری لانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور آئندہ بین الاقوامی مقابلوں میں کس طرح اپنی سابقہ کارکردگی بحال کرتے ہیں۔

More News