چاند پر جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کی عالمی دوڑ تیز، امریکا، روس اور چین آمنے سامنے

چاند پر جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کی عالمی دوڑ تیز، امریکا، روس اور چین آمنے سامنے

تینوں عالمی طاقتوں کے درمیان قمری جوہری توانائی کے منصوبوں پر مقابلہ بڑھ گیا، ری ایکٹرز سے انسانی رہائش، سائنسی تحقیق اور معدنیات کی کان کنی کے لیے بجلی فراہم کی جائے گی۔

امریکا، روس اور چین کے درمیان چاند پر جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کی دوڑ تیز ہوگئی ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد چاند پر مستقبل میں انسانی بستیاں قائم کرنے اور طویل مدتی خلائی تحقیق کے لیے توانائی کی مستقل فراہمی یقینی بنانا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2030 کے اختتام تک چاند کی سطح پر جوہری ری ایکٹر تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ روس اور چین مشترکہ طور پر 2036 تک اپنا منصوبہ مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی منصوبے کے تحت لُونر ری ایکٹر ون تقریباً 20 کلوواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گا اور پانچ سال تک بغیر مرمت کام کرسکے گا۔ دوسری جانب روس کے مجوزہ سیلینا ری ایکٹر کی پیداواری صلاحیت 10 کلوواٹ بتائی گئی ہے، جو تقریباً ایک دہائی تک دیکھ بھال کے بغیر فعال رہنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق جوہری توانائی سے چاند کے جنوبی قطب پر موجود برفیلے ذخائر سے پانی حاصل کرنے، آکسیجن تیار کرنے اور راکٹ ایندھن بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ چاند پر تقریباً دو ہفتے طویل رات کے باعث شمسی توانائی پر مکمل انحصار مشکل ہے، اسی لیے جوہری توانائی کو مؤثر متبادل سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم ان منصوبوں کو عملی شکل دینے میں کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں ری ایکٹرز کو محفوظ طریقے سے چاند پر اتارنا، نصب کرنا اور تابکاری کے ممکنہ خطرات سے بچانا شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق چاند پر جوہری تنصیبات کی تنصیب مستقبل میں عالمی خلائی مقابلے، بین الاقوامی قوانین اور مختلف ممالک کے درمیان وسائل تک رسائی کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرسکتی ہے۔

More News