مالی بحران کے باوجود خیبرپختونخوا اسمبلی ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز زغوریرِ
پشاور:جنید طورو
خیبرپختونخوا میں ایک جانب بجٹ، ترقیاتی فنڈز اور مالی بحران پر بحث جاری ہے، تو دوسری جانب ارکانِ صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق منتخب نمائندوں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے متعلق تجاویز پر پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ اسمبلی سطح پر اصولی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی مراعات کا جائزہ لینے والی کمیٹی اپنی سفارشات مکمل کرکے متعلقہ حکام کو ارسال کر چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے بعد اب ارکانِ اسمبلی کے مالی پیکیج پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب اور سندھ سمیت دیگر صوبوں میں حالیہ اضافوں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بجٹ اجلاس کے بعد ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔ مجوزہ پیکیج میں بنیادی تنخواہ کے ساتھ مختلف الاؤنسز اور دیگر مالی سہولتوں پر بھی نظرثانی شامل ہے۔
جہاں بعض حلقے اسے منتخب نمائندوں کا جائز حق قرار دے رہے ہیں، وہیں ناقدین کا مؤقف ہے کہ صوبہ پہلے ہی مالی دباؤ، ترقیاتی فنڈز کی کمی اور عوامی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں یہ فیصلہ مزید عوامی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔








