جنگی کشیدگی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث ایران کو شدید معاشی دباؤ اور روزگار کے بحران کا سامنا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ملک کی معیشت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی بلکہ مختلف متبادل ذرائع کے ذریعے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق لاکھوں ایرانی شہری بے روزگاری، مہنگائی اور کاروباری مشکلات سے متاثر ہیں، جبکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 9 کروڑ 20 لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والا ایران دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے عائد سخت امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں نے ایران کو خود انحصاری کی پالیسی اپنانے پر مجبور کیا، جس کے تحت حکومت نے معیشت کو صرف تیل پر منحصر رکھنے کے بجائے دیگر شعبوں کو بھی فروغ دیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے زراعت، صنعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور خدمات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی، جبکہ سرحد پار تجارت، غیر رسمی کاروباری سرگرمیوں، تیل کی غیر اعلانیہ برآمدات اور سمندری تجارتی نیٹ ورکس نے بھی ملکی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان متبادل ذرائع نے بیرونی دباؤ کے باوجود اقتصادی نظام کو مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچائے رکھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگی حالات اور پابندیوں نے ایرانی عوام کی زندگی کو متاثر کیا ہے، لیکن ایران نے طویل عرصے میں ایسے تجارتی اور صنعتی ڈھانچے تشکیل دیے ہیں جو مشکل حالات میں بھی معیشت کو چلانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم مسلسل کشیدگی، سرمایہ کاری میں کمی، بلند افراطِ زر اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اب بھی ایرانی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور پابندیوں میں نرمی نہ آئی تو روزگار کے مزید مواقع ختم ہونے، مہنگائی میں اضافے اور عوامی مشکلات میں مزید شدت آنے کا خدشہ موجود ہے۔ دوسری جانب اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں اور پابندیوں میں کمی آئی تو ایران کی معیشت میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔







