امریکا اور یو اے ای نے پہلی مشترکہ اے آئی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کر دیا

امریکا اور متحدہ عرب امارات نے پہلی مشترکہ اے آئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کر دیا

واشنگٹن: امریکا اور متحدہ عرب امارات نے دفاعی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پہلی مشترکہ دوطرفہ اے آئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے باضابطہ معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ مشترکہ اے آئی ٹاسک فورس آئندہ چند ہفتوں میں اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔ اس فورس کا مقصد مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی نظام، جدید ڈیٹا اینالٹکس اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

بیان کے مطابق ٹاسک فورس میں امریکا اور متحدہ عرب امارات کے 20 ماہر اہلکار شامل ہوں گے، جن کا تعلق مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی اور دفاعی ٹیکنالوجی سے ہوگا۔ یہ ماہرین جدید عسکری منصوبوں، خودکار دفاعی نظام، خطرات کی بروقت نشاندہی اور فیصلہ سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔

سینٹکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد فوجی نوعیت کی اے آئی ایپلی کیشنز کی تیاری، ان کی عملی صلاحیتوں میں تیزی سے بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دفاعی استعداد کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک تحقیق، تربیت اور جدید دفاعی نظام کی تیاری میں بھی ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی، اسی لیے دنیا کے کئی ممالک دفاعی شعبے میں اے آئی پر مبنی نظاموں کی تیاری پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ امریکا اور متحدہ عرب امارات کی یہ مشترکہ ٹاسک فورس نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی بلکہ خطے میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور مشترکہ سکیورٹی تعاون کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

More News