عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد بڑی کمی، برینٹ کروڈ 93.67 ڈالر فی بیرل پر آگیا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں تیل کے نرخوں میں تقریباً 9 فیصد کمی کے بعد برطانوی برینٹ کروڈ کی قیمت 93.67 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی کم ہوکر 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اس بڑی کمی کو توانائی کی عالمی منڈی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر دنیا بھر کی معیشتوں، توانائی کے شعبے، ٹرانسپورٹ اور صنعتی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے عالمی قیمتوں میں کمی خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت میں کمی اور ملکی معیشت پر دباؤ کم ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں مزید 7 روپے 6 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کردی ہے۔
قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 387 روپے 81 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ اس طرح پیر سے اب تک پیٹرول کی مجموعی قیمت میں 15 روپے 91 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے 15 پیسے فی لیٹر کمی ہوچکی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو کسی حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ بالخصوص موٹر سائیکل، رکشہ اور نجی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کے سفری اخراجات میں کمی آسکتی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت کم ہونے سے مال بردار گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات میں بھی کمی کے امکانات ہیں۔
تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین دیگر عوامل، جن میں شرح مبادلہ، حکومتی ٹیکسز، لیوی اور درآمدی اخراجات شامل ہیں، کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان کو مزید معاشی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار آئندہ عالمی قیمتوں اور ملکی معاشی صورتحال پر ہوگا۔








