خیبرپختونخوا میں اسلحہ لائسنس اسکینڈل بے نقاب، جعلی لائسنس جاری ہونے کا انکشاف
پشاور: خیبرپختونخوا میں سرکاری اسلحہ لائسنسوں کے اجرا سے متعلق ایک بڑے اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مبینہ طور پر سرکاری لائسنس گھروں میں تیار کرکے فروخت کیے جا رہے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اب تک محکمۂ داخلہ خیبرپختونخوا کے درجنوں جعلی اسلحہ لائسنس سامنے آ چکے ہیں۔ ایک لائسنس کے حصول کے لیے 80 ہزار روپے سے لے کر ڈھائی لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محکمۂ داخلہ کے لائسنس برانچ کا ایک اہلکار بھی اس معاملے میں ملوث ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، پرنٹر، سیاہی کی بوتلیں، 700 کارڈز اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے محکمۂ داخلہ کو بھی مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے، جبکہ محکمۂ داخلہ کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
سی سی پی او پشاور نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی ذمہ دار اہلکار کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
محکمۂ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔








