خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کی خالی کردہ زمینوں پر جنگلات قائم کرنے کی منظوری
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کی جانب سے خالی کی گئی زمینوں کو بحال کرنے اور ان پر جنگلات قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
منصوبے کے تحت درگئی اور گڑھی چندن میں زمینوں کے حصول اور شجرکاری کے لیے رواں مالی سال میں 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 1400 ملین روپے بتائی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق منصوبے کا مقصد صوبے میں ماحولیاتی آلودگی میں کمی، شجرکاری کو فروغ دینا، جدید تکنیک کے ذریعے جنگلات کی دیکھ بھال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنا ہے۔
10 بلین ٹری اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے تحت صوبے میں بنجر اور خشک علاقوں میں سولر ٹیوب ویلز کے ذریعے شجرکاری بھی کی جائے گی۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 12,616.750 ملین روپے ہے، جس کے لیے رواں مالی سال میں 1,008.568 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
منصوبے کے تحت پشاور میں شہری ماحول کی بحالی اور شجرکاری کے لیے 192.020 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ جنوبی اضلاع میں فارسٹ نالج پارکس کے قیام کے لیے بھی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے قیام اور فیزیبلٹی کے لیے بھی دو کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے صوبے میں سبز رقبے میں اضافہ، ماحولیاتی بہتری اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔





