خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف 5دھڑوں میں تقسیم ، سیاسی بحران میں اضافہ

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی پانچ دھڑوں میں تقسیم، سیاسی بحران شدت اختیار کرنے لگا

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے، جہاں مرکزی قیادت کے کمزور کنٹرول، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی گروپ بندی نے پارٹی کو پانچ مختلف دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کے لیے پس پردہ رابطوں، جوڑ توڑ اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے میں موجود حکومتی سیٹ اپ کو “میوزیکل چیئر” بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور مختلف رہنما اپنے حمایتی اراکین اسمبلی کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی حکومت کے خلاف بعض حلقے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں جبکہ کئی اراکین اسمبلی خاموشی سے سیاسی تبدیلی یا کسی ممکنہ معجزے کے منتظر ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبائی اسمبلی میں سب سے بڑا گروپ کسی ایک رہنما کی کھل کر حمایت نہیں کر رہا۔ اس گروپ میں بیس سے زائد اراکین اسمبلی شامل بتائے جاتے ہیں، جو وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی سے شدید ناراض ہیں۔ تاہم یہ گروپ کسی کھلی بغاوت یا سازش کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی سے سیاسی حالات بہتر ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔

دوسرا بڑا دھڑا سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حامیوں پر مشتمل ہے، جس میں پندرہ سے زائد اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ اس گروپ کے اراکین کا مؤقف ہے کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں گورننس بہتر تھی، بیوروکریسی کنٹرول میں تھی اور اراکین اسمبلی کے مسائل بھی فوری حل ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گروپ انہیں دوبارہ وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر لانے کے لیے سرگرم ہے۔

تیسرا گروپ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے حق میں سرگرم بتایا جا رہا ہے۔ اس گروپ میں بارہ سے زائد اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ بابر سلیم سواتی ایک بہترین منتظم ہیں اور اسمبلی امور مؤثر انداز میں چلا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مستقبل کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

چوتھا دھڑا جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے آصف محسود کے گرد متحرک ہے۔ اس گروپ میں بارہ سے پندرہ اراکین اسمبلی شامل بتائے جاتے ہیں۔ آصف محسود کو پارٹی کے اندر ایک جارحانہ اور متحرک رہنما تصور کیا جاتا ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ان کے دوٹوک مؤقف نے بھی ان کی سیاسی اہمیت بڑھا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق سب سے کمزور گروپ خود وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا سمجھا جا رہا ہے۔ ان کی اپنی کابینہ کے کئی اراکین بھی ان سے ناراض ہیں اور چند قریبی ساتھیوں کے سوا کوئی کھل کر ان کے دفاع میں سامنے نہیں آتا۔ تاہم عمران خان کی جانب سے نامزد کیے جانے کے باعث بیشتر اراکین اب بھی کھل کر مخالفت سے گریز کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر پارٹی کے اندر اختلافات اسی طرح بڑھتے رہے تو خیبرپختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں اور حکومت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

More News

Crime

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ ایکسپلوسیو کے دہشتگردی میں استعمال کو روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ بارودی مواد کے دہشتگردی میں استعمال کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ پشاور:سید عدنان خیبرپختونخوا

Read More »