خیبرپختونخوا میں یوم مزدور ریلیاں، مزدوروں کے حقوق تحفظ کا مطالبہ

خیبرپختونخوا میں یومِ مزدور پر ریلیاں اور مظاہرے، مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور 40 ہزار اجرت پر عملدرآمد کا مطالبہ

پشاور: خیبرپختونخوا بھر میں یوم مزدور کے موقع پر مختلف شہروں میں ریلیوں، مظاہروں اور اجتماعات کا انعقاد کیا گیا، جن میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، بہتر کام کے حالات اور کم از کم 40 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ مختلف مزدور تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ضلع صوابی کی تحصیل ٹوپی میں پاکستان ورکرز فیڈریشن کے زیر اہتمام ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مزدوروں، یونین نمائندگان اور شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر مزدوروں کے حقوق، مناسب اجرت اور بہتر کام کے حالات کے حق میں نعرے درج تھے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور اعلان کردہ اجرت پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

ادھر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام جی پی او چوک سے توپانوالہ تک ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے مزدوروں کے حقوق کے حق میں نعرے لگائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مقررین نے کہا کہ مزدوروں کی محنت پر معاشرہ کھڑا ہے مگر افسوس کہ یہی طبقہ سب سے زیادہ محرومی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے جبکہ مہنگائی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔

ضلع چارسدہ میں قومی وطن پارٹی کے زیر اہتمام مندنی بازار میں پریس کانفرنس اور واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر شکاگو کے شہداء سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ محنت کش طبقہ معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کیا جائے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔

دوسری جانب ضلع نوشہرہ میں بھی آل پاکستان یونائیٹڈ ورکر فیڈریشن کے زیر اہتمام شوبرا چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے مہنگائی اور کم اجرت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ مقررین نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مزدور طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور موجودہ اجرت اخراجات کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تنخواہوں میں فوری اضافہ کیا جائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔

مقررین نے خبردار کیا کہ اگر مزدوروں کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر صوبے بھر میں یوم مزدور کے موقع پر ہونے والی سرگرمیوں میں ایک ہی پیغام دیا گیا کہ مزدوروں کو ان کا جائز حق دیا جائے، ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور انہیں معاشی تحفظ فراہم کیا جائے۔

More News