ملک میں مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان

ملک میں مہنگائی 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان، وزارت خزانہ کی اقتصادی رپورٹ جاری

اسلام آباد:ویب ڈیسک

وزارت خزانہ نے اپنی تازہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ ملک میں اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے میں مہنگائی میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم مجموعی طور پر معیشت دباؤ کے باوجود استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد جبکہ فروری میں یہ 7 فیصد کی سطح پر تھی۔ جولائی سے مارچ کے نو ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 5.3 فیصد تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ عالمی اور مقامی معاشی عوامل کا نتیجہ ہے۔

اقتصادی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر اشیائے خوردونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ملک میں مہنگائی اور دیگر معاشی اشاریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں رد و بدل کے باعث پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، جس کا اثر براہ راست عوامی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق جولائی سے مارچ کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم درآمدات میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان ملکی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کو معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری اور طویل المدتی پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا شامل ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مہنگائی کی شرح میں کچھ حد تک استحکام دیکھا جا رہا ہے، تاہم عالمی صورتحال اور اندرونی معاشی دباؤ کے باعث مستقبل میں چیلنجز برقرار رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو زرعی پیداوار، صنعتوں کی بحالی اور توانائی کے شعبے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔

اقتصادی رپورٹ کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے اور عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف ریلیف اقدامات جاری رکھے جائیں۔ تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

مجموعی طور پر رپورٹ میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر موجودہ معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رہا تو مہنگائی کی شرح کو ایک حد تک کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مستقل اصلاحات اور موثر حکمت عملی ناگزیر ہے۔

More News