خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات
خیبرپختونخوا کے ٹرانسپورٹ نظام میں بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور اداروں کے درمیان عدم رابطے کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک دستاویز کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ میں جدید منصوبہ بندی اور جامع و قابلِ اعتماد ڈیٹا کی کمی کے باعث نظام کو مؤثر انداز میں چلانے اور نگرانی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دستاویز میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذیلی اداروں کے درمیان کوارڈینیشن کے فقدان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، خیبرپختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی اور ٹرانسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کے درمیان مؤثر رابطہ نہ ہونے سے ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی اور انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق روٹ پرمٹس کی ضرورت اور انہیں جاری کرنے کی گنجائش سے متعلق منظم ڈیٹا دستیاب نہیں، جبکہ روٹ پرمٹ رکھنے والی گاڑیوں پر بھی ٹریفک قوانین کا مؤثر نفاذ نہیں ہو رہا۔ مقررہ مدت پوری کرنے والی کئی دہائیوں پرانی گاڑیاں بھی سڑکوں پر چل رہی ہیں، جو شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
دستاویز میں گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے نظام کو بھی مشکلات کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی بڑھتی تعداد کے مقابلے میں موٹر وہیکل ایگزامینرز کی شدید کمی بھی سامنے آئی ہے۔
ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کا نظام بھی ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور آپریشنل اخراجات سے مؤثر طور پر منسلک نہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ اتھارٹیز اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو بھی ناکافی قرار دیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق جامع ڈیٹا اور مختلف محکموں کے درمیان عدم ہم آہنگی کے باعث شہری ٹرانسپورٹ کی منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور نگرانی متاثر ہو رہی ہے۔







