خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع، ملاکنڈ ڈویژن اور صنعتوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ کی منظوری
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے ضم قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں خدمات اور صنعتوں کو صوبائی ٹیکسوں میں استثنیٰ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق ان علاقوں میں خدمات فراہم کرنے والوں کو خدمات پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جبکہ قائم صنعتوں کو ودہولڈنگ سیلز ٹیکس سے بھی چھوٹ دی جائے گی۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان کے مطابق کابینہ کے فیصلے کا مقصد ضم اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور صنعت و کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
کابینہ نے احساس نوجوان پروگرام کا حجم بھی 3 ارب روپے سے بڑھا کر 5 ارب روپے کرنے کی منظوری دے دی۔ پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
اجلاس میں یکم ربیع الاول سے پورے خیبرپختونخوا میں سرکاری سطح پر عشرہ رحمت للعالمین ﷺ منانے اور اس حوالے سے مختلف تقریبات کے انعقاد کے شیڈول کی بھی منظوری دی گئی۔
صوبائی کابینہ نے مختلف اضلاع میں اسکولوں اور کالجز کے لیے فنڈز کی فراہمی کی منظوری بھی دی، جبکہ پانچویں جماعت تک سمسٹر نظام کے تحت جیکٹڈ نصابی کتب فراہم کرنے کے فیصلے کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں نویں سے بارہویں جماعت تک طلبہ کو سو فیصد مفت نصابی کتب فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جس کا مقصد طلبہ اور والدین پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی بل 2026 کو بھی کابینہ نے قانون سازی کے لیے منظور کرلیا۔ اس قانون سازی کے ذریعے صوبے میں سرکاری اور نجی شعبے کے اشتراک سے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کے منصوبوں کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس استثنیٰ، نوجوانوں کے لیے فنڈز میں اضافے اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات کا مقصد صوبے کے پسماندہ علاقوں میں معاشی اور سماجی ترقی کو تیز کرنا ہے۔





