خیبرپختونخوا کے وسائل، وفاق سے 2300 ارب روپے کے واجبات کا معاملہ عدالت لے جانے کا عندیہ
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبہ ملک کی 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی پیدا کرکے نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود صوبے کو اپنے وسائل کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔
محکمہ توانائی و برقیات کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اے جی این کازی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے بقایاجات 2300 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں، جبکہ عبوری انتظام کے تحت بھی 78 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔
بریفنگ کے مطابق گزشتہ 3 سال کے دوران خیبرپختونخوا کو این ایچ پی کی مد میں 87.7 ارب روپے جبکہ پنجاب کو 160.8 ارب روپے ملے۔ وزیراعلیٰ نے ادائیگیوں میں تاخیر اور عدم تناسب کو صوبے کی مالی صورتحال کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا یومیہ 530 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ صوبے کی اپنی کھپت 200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ اسی طرح صوبہ یومیہ 850 ٹن ایل پی جی پیدا کرتا ہے جبکہ کھپت 600 ٹن ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل کی پیداوار کے باوجود عوام کو ان کا جائز فائدہ نہ ملنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اجلاس میں صوبائی ٹرانسمیشن اور گرڈ نظام کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ سرمایہ کار کانفرنس میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسے انتہائی منافع بخش منصوبہ قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ صوبے کے حقوق کا معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ مضبوط اور باضابطہ انداز میں اٹھایا جائے، جبکہ ریلیف نہ ملنے کی صورت میں خیبرپختونخوا کے حقوق کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔







