خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر اختیار ولی خان کا اظہار تشویش

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر اختیار ولی خان کا اظہار تشویش

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون اختیار ولی خان نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو امن و امان بہتر بنانے اور اداروں کو مضبوط کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے خیبر پختونخوا حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی اطمینان بخش نہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے اپنی توجہ مرکوز کرے۔

اختیار ولی خان نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارکردگی اور وسائل کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کو نظرانداز کیا گیا ہے، جس کے باعث دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور سکیورٹی سے متعلق ادارے کمزور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال بتدریج خراب ہو رہی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنا ہوگا اور سکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں 63 پولیس اہلکار شہید جبکہ 122 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ اور مطلوبہ وسائل فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

اختیار ولی خان نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اداروں کو مکمل تعاون اور وسائل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے لیے اداروں کو مضبوط بنانا، پولیس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام امن چاہتے ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ اختیار ولی خان کے بیان پر صوبائی حکومت کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اختیار ولی خان خیبر پختونخوا سے متعلق امور پر وزیراعظم کے معاون کے طور پر بھی سیاسی اور حکومتی معاملات پر اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔

More News