خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق حکومتی مؤقف سامنے آگیا
اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا آئینی اختیار صدر مملکت کے پاس ہے جبکہ اس کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو حاصل اختیارات کے تحت چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی بھی فرد کو تفویض کیے جاسکتے ہیں۔
طارق فضل چوہدری کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں وفاقی سطح پر مختلف آئینی اور قانونی آپشنز پر مشاورت جاری ہے۔ ان کے بیان کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئینی طریقہ کار میں صدر مملکت کا کردار بنیادی ہے، جبکہ پارلیمنٹ کی منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت مخصوص حالات میں صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں۔ آئین کے مطابق اگر ایمرجنسی داخلی بدامنی کی ایسی صورتحال کے باعث نافذ کی جائے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا تقاضا بھی موجود ہے۔ اگر صدر اپنے طور پر ایمرجنسی نافذ کریں تو اسے مقررہ مدت کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔
دوسری جانب آئین کا آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں صدر مملکت کو مخصوص اقدامات کا اختیار دیتا ہے۔ اس شق کے تحت صدر، گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر، صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ ایسے اعلان کو بھی پارلیمانی منظوری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر کے بیان کے بعد خیبر پختونخوا سے متعلق آئینی و قانونی معاملات پر جاری بحث مزید اہم ہوگئی ہے۔ تاہم اب تک کسی حتمی آئینی اقدام یا ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکومتی سطح پر صوبے کی امن و امان کی صورتحال، آئینی تقاضوں اور دستیاب قانونی راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آئندہ کسی بھی اقدام کی صورت میں اس کے لیے آئین میں درج طریقہ کار پر عملدرآمد ضروری ہوگا۔








