خیبر پختونخوا کی صورتحال، آئینی اور قانونی آپشنز پر غور
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور صوبے سے متعلق مختلف آئینی و قانونی آپشنز پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، وفاق اور صوبے کے درمیان معاملات اور آئینی و قانونی امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی، جبکہ وزیر قانون نے خیبر پختونخوا سے متعلق آئینی اور قانونی معاملات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
اجلاس میں موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف آئینی اور قانونی راستوں پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات، گورنر راج اور سیاسی مذاکرات سمیت مختلف آپشنز زیر غور ہیں، تاہم حتمی فیصلہ کیے جانے کے بعد ہی کسی اقدام پر پیش رفت ہوگی۔
آئین کا آرٹیکل 232 مخصوص حالات میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں اقدامات سے متعلق ہے۔ حکومتی سطح پر ان آئینی شقوں کے ممکنہ استعمال پر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں مختلف فریقوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران امن و امان کی صورتحال وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
فی الحال اجلاس میں کسی حتمی آئینی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ حکومتی مشاورت اور متعلقہ اداروں کی بریفنگز کے بعد خیبر پختونخوا سے متعلق آئندہ کے اقدامات کا فیصلہ متوقع ہے۔








