خیبر پختونخوا کابینہ میں نئی ذمہ داریاں تقسیم، وزراء اور معاونین کے قلمدان جاری

خیبر پختونخوا کابینہ میں نئی ذمہ داریاں تقسیم، وزراء اور معاونین کے قلمدان جاری

پشاور:کاشف عارف

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی کابینہ میں شامل وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کے قلمدانوں کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مختلف اہم محکموں کی ذمہ داریاں کابینہ اراکین میں تقسیم کردی گئی ہیں تاکہ صوبے میں انتظامی امور کو مزید مؤثر انداز میں چلایا جاسکے۔

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نذیر احمد عباسی کو توانائی و بجلی کا قلمدان سونپا گیا ہے جبکہ شکیل احمد کو مواصلات و تعمیرات کا محکمہ دیا گیا ہے۔ محمد عارف کو معدنیات، طارق محمود آریانی کو ریونیو اینڈ اسٹیٹ جبکہ شفیع اللہ جان کو اطلاعات و تعلقات عامہ کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے مشیروں میں پیر مصور خان کو موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کا قلمدان دیا گیا ہے۔ ملک لیاقت خان کو زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور خواتین بااختیاری کے شعبے سونپے گئے ہیں جبکہ ہمایون خان کو صنعت و تجارت کا محکمہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح میاں محمد عمر کاکاخیل کو زراعت کا قلمدان تفویض کیا گیا ہے۔

معاونین خصوصی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ طارق سعید کو داخلہ و قبائلی امور کا محکمہ دیا گیا ہے جبکہ محمد عثمان کو ٹیکنیکل ایجوکیشن و ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ طفیل انجم کو آبادی بہبود، افتخار اللہ جان کو جیل خانہ جات اور سمیع اللہ خان کو ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا قلمدان دیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ملک عدیل اقبال کو ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ اور عجائب گھر کا محکمہ تفویض کیا گیا ہے جبکہ محمد خورشید کو لائیو اسٹاک، فشریز اور کوآپریٹوز کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ محمد اسرار کو خوراک کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کابینہ میں قلمدانوں کی نئی تقسیم کا مقصد حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور مختلف شعبوں میں انتظامی معاملات کو مزید فعال بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی، زراعت، صنعت، ماحولیات اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں میں مؤثر پالیسی سازی اور عملدرآمد صوبائی حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہوگا۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئی ذمہ داریاں دینے کا مقصد عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دینا اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ کابینہ اراکین اپنی نئی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں نبھاتے ہوئے صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کیلئے کردار ادا کریں گے۔

More News