سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کیخلاف تمام شکایات مسترد کردیں

سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف تمام شکایات مسترد کردیں

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر تمام شکایات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابل سماعت قرار دے دیا۔ کونسل کے فیصلے کے مطابق مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے وکلا اور شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی پانچوں شکایات میں مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 مئی کو منعقد ہوا جس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ کارروائی کے خلاصے میں بتایا گیا کہ کونسل نے تمام شکایات متفقہ طور پر خارج کردیں۔

اعلامیے کے مطابق پہلی شکایت پشاور ہائیکورٹ کے وکیل صبغت اللہ شاہ کی جانب سے 2016 میں دائر کی گئی تھی۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے ایڈیشنل سیشن ججوں کی تقرری کے عمل میں میرٹ کو نظر انداز کیا۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے ریکارڈ اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اس شکایت کو مسترد کردیا۔

دوسری شکایت کراچی سے تعلق رکھنے والے شہری امجد حسین درانی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایک مقدمہ بغیر سماعت کے خارج کردیا۔ کونسل نے اس شکایت کا بھی جائزہ لیا اور اسے متفقہ طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔

ذرائع کے مطابق باقی شکایات بھی لاہور، وہاڑی اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن میں مختلف نوعیت کے الزامات شامل تھے۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے تمام شکایات کا قانونی اور آئینی پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد انہیں مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل ملک کے اعلیٰ عدالتی ججز کے خلاف شکایات سننے والا آئینی فورم ہے، جو شواہد اور قانونی نکات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کونسل کی جانب سے شکایات مسترد کیے جانے کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر تمام الزامات ختم ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب عدالتی حلقوں میں اس فیصلے کو عدالتی نظام کے استحکام اور آئینی عمل کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے سے یہ واضح ہوا ہے کہ ججز کے خلاف شکایات کو مکمل قانونی جانچ پڑتال کے بعد ہی نمٹایا جاتا ہے تاکہ عدلیہ کی ساکھ اور خودمختاری برقرار رکھی جاسکے۔

More News