خیرپور میں افسوسناک حادثہ، نہر میں ڈوب کر ایک ہی خاندان کے 4 بچے جاں بحق

خیرپور میں افسوسناک حادثہ، نہر میں ڈوب کر ایک ہی خاندان کے 4 بچے جاں بحق

خیرپور: سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک انتہائی افسوسناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے چار کمسن بچے نہر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ اس المناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا، جبکہ اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور بڑی تعداد میں شہری جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق چاروں بچے لالن نہر میں نہانے کی غرض سے گئے تھے۔ نہاتے ہوئے وہ اچانک گہرے پانی میں چلے گئے اور تیز بہاؤ کے باعث خود کو سنبھال نہ سکے۔ بچوں کے ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد نے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم کامیابی نہ ملنے پر فوری طور پر ریسکیو اداروں کو اطلاع دی گئی۔

اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ کچھ دیر کی کوششوں کے بعد نہر سے چاروں بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں، جنہیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔ بچوں کی اچانک موت کی خبر سنتے ہی اہل خانہ غم سے نڈھال ہوگئے، جبکہ علاقے کی فضا سوگ میں ڈوب گئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں آٹھ سے بارہ سال کے درمیان تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تمام بچے آپس میں قریبی رشتہ دار اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ حکام واقعے کی مزید تحقیقات بھی کر رہے ہیں تاکہ حادثے کی مکمل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خیرپور میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے لاڑکانہ میں پیش آنے والے ایک اور افسوسناک واقعے، جس میں تین بچے ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے، پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں سے ہر ممکن تعاون کرنے، فوری امدادی اقدامات یقینی بنانے اور متاثرین کی ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔

مراد علی شاہ نے ڈپٹی کمشنر خیرپور اور ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کو خصوصی طور پر ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطہ رکھا جائے، انہیں ہر ممکن سرکاری سہولت فراہم کی جائے اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے نہروں اور آبی مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔

More News