ٹرمپ دور میں ایران جنگ اور پالیسی فیصلوں سے امریکی معیشت شدید دباؤ کا شکار
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی 18 ماہ کے دوران ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی، جنگی اخراجات، سخت امیگریشن پالیسیوں اور درآمدی محصولات میں اضافے نے امریکی معیشت پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے تجزیے کے مطابق اگرچہ امریکہ کی معیشت مجموعی طور پر اب بھی مضبوط تصور کی جاتی ہے، تاہم متعدد معاشی اشاریے ایسے ہیں جو بڑھتے ہوئے چیلنجز کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی میں کمی، صنعتی شعبے میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے، امریکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور متوسط طبقے کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے، لیکن اب تک ان اہداف میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
تجزیے کے مطابق ایران کے ساتھ جنگی صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، صنعت اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات مہنگائی کی صورت میں امریکی صارفین تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوئی، جس سے مختلف اشیائے ضروریہ اور صنعتی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے متعدد ممالک پر عائد اضافی درآمدی محصولات نے بھی کاروباری لاگت میں اضافہ کیا۔ درآمدی خام مال اور تیار مصنوعات مہنگی ہونے سے کمپنیوں کو اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ روزگار کے شعبے میں بھی توقعات کے مطابق پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اگرچہ بے روزگاری کی مجموعی شرح نسبتاً کم رہی، لیکن صنعتی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نئی ملازمتوں کی رفتار توقع سے کم رہی۔ دوسری جانب سخت امیگریشن پالیسیوں اور آبادی کے عمر رسیدہ ہونے کے باعث زراعت، تعمیرات، صحت اور سروسز سمیت کئی شعبوں میں افرادی قوت کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
رہائشی شعبہ بھی بدستور دباؤ کا شکار ہے۔ بلند شرح سود، مہنگے مکانات اور محدود رسد نے لاکھوں امریکیوں کے لیے گھر خریدنا مشکل بنا دیا ہے، جبکہ کرایوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے مالی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
رائٹرز کے تجزیے کے مطابق امریکی معیشت اب بھی دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شامل ہے، تاہم مہنگائی، ایران جنگ کے معاشی اثرات، بڑھتے جنگی اخراجات، درآمدی محصولات اور دیگر پالیسی فیصلے مستقبل میں بھی بڑے معاشی چیلنجز کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں۔








