دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ، خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب، مختلف علاقوں میں ہائی الرٹ
ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں اور بالائی علاقوں سے آنے والے پانی کے بڑھتے ہوئے بہاؤ کے باعث دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کی تازہ رپورٹ کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور ہیڈ خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد متعلقہ اضلاع میں انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور آبپاشی حکام کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہیڈ قادرآباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیوسک تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث دریا کے کنارے واقع نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر بھی نچلے درجے کی سیلابی کیفیت موجود ہے۔ اگرچہ ان مقامات پر صورتحال تاحال قابو میں ہے، تاہم متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کی صورت میں بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
ادھر بلوچستان کے سبی ڈویژن میں دریائے لہڑی کے ہیڈ گوگی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیوسک تک پہنچ گیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ضلعی انتظامیہ نے قریبی آبادیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے امدادی ٹیموں کو الرٹ رکھا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔
سیلابی صورتحال کے دوران ایک خوش آئند پیش رفت سیالکوٹ میں سامنے آئی، جہاں دریائے چناب میں پھنسنے والے پانچ افراد کو ریسکیو اہلکاروں نے بحفاظت نکال لیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق یہ افراد کام کے سلسلے میں دریا کے پار گئے تھے، تاہم واپسی کے دوران ان کی کشتی فنی خرابی کا شکار ہوگئی، جس کے باعث وہ دریا کے بیچ پھنس گئے۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
حکام کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی چھوڑے جانے سے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں سیالکوٹ، وزیرآباد اور دریائے چناب سے ملحقہ دیگر اضلاع میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری طور پر دریا کے قریب جانے سے گریز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ ریسکیو، محکمہ آبپاشی، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے ہر ممکن حفاظتی اقدامات یقینی بنا رہے ہیں۔








