رستم میں آسمانی بجلی گرنے سے گھر کی چھت منہدم، 2 کمسن بچے جاں بحق، ماں اور بیٹی زخمی
ضلع مردان کی تحصیل رستم کے علاقے عرفان نگر میں بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں گھر کی چھت منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں دو کمسن بچے جاں بحق جبکہ ان کی والدہ اور 14 سالہ بہن شدید زخمی ہوگئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی اور اہلِ علاقہ نے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق آسمانی بجلی گرنے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے فوری کارروائی کی اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) ہسپتال منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت 2 سالہ محمد حسین اور ایک سالہ زنیرہ کے ناموں سے ہوئی ہے، جو ملبے تلے دب کر موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ زخمی ہونے والی والدہ اور 14 سالہ بیٹی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں ہسپتال میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے بعد عرفان نگر اور ملحقہ علاقوں میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی افراد نے جاں بحق بچوں کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ اہلِ علاقہ نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ بھی کیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق مون سون کے موسم میں گرج چمک اور آسمانی بجلی کے دوران خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ خراب موسم میں کھلی جگہوں، بلند درختوں، بجلی کے کھمبوں اور دھاتی اشیاء سے دور رہیں، جبکہ ممکن ہو تو مضبوط عمارت کے اندر رہیں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے آسمانی بجلی سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں نمایاں حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔








