رضوان اور امام کو کیوں منتخب کیا گیا؟ پی سی بی کا شوکاز نوٹس جاری
سلیکشن کمیٹی کے رکن سے محمد رضوان اور امام الحق کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرنے پر وضاحت طلب
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن کو مبینہ طور پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں کھلاڑیوں کے انتخاب سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔
رپورٹس کے مطابق شوکاز نوٹس میں بالخصوص محمد رضوان اور امام الحق کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیے جانے پر وضاحت مانگی گئی ہے۔ پی سی بی نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
متعلقہ سلیکشن کمیٹی کے رکن سے انتخاب کے طریقہ کار، کھلاڑیوں کے انتخاب کے معیار اور ان کی حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔
پی سی بی نے مبینہ طور پر متعلقہ عہدیدار کو شوکاز نوٹس موصول ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ معاملے کو ہنگامی اور انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے فوری بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شوکاز نوٹس پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سامی احمد سید کی جانب سے جاری کیا گیا۔
مصباح الحق کا چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ
یہ پیش رفت پاکستان کرکٹ میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے دوران سامنے آئی ہے۔ سابق قومی کپتان مصباح الحق نے پی سی بی کے چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے، تاہم وہ پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 ماہ کا جائزہ لینے اور آئندہ دو برس کے مصروف شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ اب اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ ایک ہی ذمہ داری پر مرکوز کرنا بہتر ہوگا۔
انہوں نے کوچنگ کو اپنا شوق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور قومی ٹیم کو مزید کامیابیاں دلانے میں کردار ادا کرنا ہے۔
مصباح الحق نے ستمبر 2019 میں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر دونوں ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ ان کے مطابق دونوں عہدے بیک وقت سنبھالنے سے شدید دباؤ پیدا ہوا اور وہ پہلے بھی پی سی بی کو آگاہ کرچکے تھے کہ دونوں ذمہ داریاں نبھانا مشکل ہوگا۔
پی سی بی کے مطابق مصباح زمبابوے کے خلاف آئندہ ہوم سیریز اور نیوزی لینڈ کے خلاف دورۂ سیریز کے لیے اسکواڈز کا انتخاب کریں گے۔ نئے چیف سلیکٹر کے یکم دسمبر سے ذمہ داریاں سنبھالنے کا امکان ہے۔
پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے بھی مصباح کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آئندہ عرصے میں تین بڑے عالمی ایونٹس اور 10 بین الاقوامی مصروفیات کا سامنا ہے، اس لیے مصباح کا سمجھنا ہے کہ صرف کوچنگ پر توجہ دے کر وہ بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔
مصباح الحق نے واضح کیا کہ ان کا فیصلہ وزیراعظم سے کسی ملاقات سے متعلق نہیں بلکہ کام کے دباؤ اور ٹیم کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
مصباح کی ذمہ داریوں کے دوران پاکستان نے تمام فارمیٹس میں مجموعی طور پر 19 میچز کھیلے، جن میں قومی ٹیم نے 7 کامیابیاں حاصل کیں جبکہ 9 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔




