روس نے ایک بار پھر ایران کے افزودہ ایٹمی مواد کو منتقل کرنے میں مدد کی پیشکش کردی

روس نے ایک بار پھر ایران کے افزودہ ایٹمی مواد کی منتقلی میں مدد کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ پیشکش روسی ایٹمی توانائی ایجنسی Rosatom کے سربراہ کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں صرف تکنیکی مشکلات ہی نہیں بلکہ سب سے بڑا مسئلہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، جو طویل عرصے سے جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

روسی حکام کے مطابق روس کو ایران کے ساتھ جوہری تعاون کا پہلے سے مثبت تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں بھی روس نے ایران کے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس سے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم معاہدے کو عملی شکل دینے میں مدد ملی تھی۔ اسی بنیاد پر روس کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ ضرورت پیش آئے تو وہ اس بار بھی اسی نوعیت کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسٹم کے سربراہ نے زور دیا کہ اگرچہ تکنیکی پہلو اہم ہیں، لیکن اصل رکاوٹ سیاسی اور سفارتی اعتماد کی کمی ہے۔ ان کے مطابق جب تک امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد بحال نہیں ہوتا، اس نوعیت کے معاملات میں پیش رفت مشکل رہے گی۔ روس نے اپنے مؤقف میں ایک بار پھر خود کو ممکنہ ثالث اور سہولت کار کے طور پر پیش کیا ہے۔

More News