Kremlin نے واضح کیا ہے کہ روس کا OPEC+ سے علیحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب United Arab Emirates کی جانب سے اوپیک پلس سے علیحدگی کے فیصلے کی خبریں منظرعام پر آئیں، جس پر عالمی توانائی منڈیوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔
کریملن کے ترجمان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اوپیک پلس سے نکلنے کا فیصلہ متحدہ عرب امارات کا خودمختار فیصلہ ہے اور روس اس کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماسکو بدستور اتحاد کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا اور توانائی منڈی کے استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپناتا رہے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ روس اور یو اے ای کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعلقات اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ روس کا مؤقف ہے کہ عالمی تیل منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے باہمی رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جغرافیائی و سیاسی حالات غیر یقینی کا شکار ہوں۔
ادھر کریملن نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس سال ہونے والی وکٹری پریڈ کی تقریب کو محدود پیمانے پر منعقد کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق تقریب کی نوعیت اور پیمانے سے متعلق فیصلے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس اتحاد عالمی تیل کی پیداوار اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے والا ایک اہم پلیٹ فارم ہے، اور روس کی اس میں شمولیت عالمی توانائی پالیسی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔








