سائبر سیکیورٹی ماہرین نے مفت فیس بک بلیو ٹک کے نام پر ہونے والے فراڈ سے خبردار کر دیا

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے مفت فیس بک بلیو ٹک کے نام پر ہونے والے فراڈ سے خبردار کر دیا

دنیا بھر میں فیس بک صارفین کو مفت بلیو ویریفکیشن بیج دینے کے نام پر ایک خطرناک سائبر فراڈ مہم بے نقاب ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں صارفین اپنے اکاؤنٹس سے محروم ہو چکے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس مہم کے بارے میں تین ماہ قبل ہی خبردار کر دیا تھا، تاہم اب بھی متعدد افراد اس کا شکار بن رہے ہیں۔

بین الاقوامی سیکیورٹی کمپنی Guard.io کی مئی 2026 میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس مہم کو “AccountDumpling” کا نام دیا گیا ہے، جسے مبینہ طور پر ویتنام سے تعلق رکھنے والا ایک سائبر جرائم پیشہ گروہ چلا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آور خاص طور پر ایسے فیس بک اکاؤنٹس کو نشانہ بناتے ہیں جو کاروباری، مالی یا مونیٹائزیشن کے لحاظ سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

سیکیورٹی محقق شیکڈ چن (Shaked Chen) کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فیس بک صارفین، پیج ایڈمنز اور کاروباری اکاؤنٹس چلانے والوں کو بڑی تعداد میں ایسی جعلی ای میلز موصول ہوئیں جو بظاہر گوگل کے مستند نظام سے بھیجی گئی معلوم ہوتی تھیں۔ اس بار سائبر مجرموں نے گوگل کی AppSheet سروس کا ناجائز استعمال کیا، جو عام طور پر کاروباری نوٹیفکیشنز اور ورک فلو کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ای میلز گوگل کے قابل اعتماد سسٹم سے بھیجی جاتی ہیں، اس لیے بہت سے صارفین انہیں اصلی سمجھ کر ان میں موجود لنکس پر کلک کر دیتے ہیں۔ یہی غلطی ان کے اکاؤنٹس ہیک ہونے کی بڑی وجہ بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ بعض ای میلز میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صارف کا فیس بک اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے یا اس پر کاپی رائٹ کی شکایت درج ہوئی ہے، جبکہ کچھ پیغامات میں مفت فیس بک بلیو بیج حاصل کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے تاکہ صارفین کو لالچ دے کر جعلی ویب سائٹس تک پہنچایا جا سکے۔

ان جعلی ویب صفحات پر پہلے صارفین سے فرضی CAPTCHA مکمل کروایا جاتا ہے، جس کے بعد ان سے ای میل، فون نمبر، پاس ورڈ اور آخر میں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) کا کوڈ بھی طلب کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی صارف یہ معلومات فراہم کرتا ہے، اس کا اکاؤنٹ حملہ آوروں کے قبضے میں چلا جاتا ہے، جسے بعد میں آن لائن غیر قانونی مارکیٹس میں فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔

سیکیورٹی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سائبر مجرموں نے ای میل فلٹرز کو دھوکا دینے کے لیے جدید تکنیکیں استعمال کیں، جن میں پوشیدہ یونیکوڈ حروف، الفاظ کو جان بوجھ کر توڑ کر لکھنا اور ایسے خصوصی کریکٹرز شامل ہیں جو اصل برانڈنگ سے تقریباً یکساں نظر آتے ہیں۔

ماہرین نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ای میل میں موجود لنک پر کلک کرنے سے پہلے اس کی مکمل جانچ کریں، اپنا پاس ورڈ یا 2FA کوڈ کسی غیر مصدقہ ویب سائٹ پر ہرگز درج نہ کریں، اور فیس بک یا انسٹاگرام سے متعلق تمام کارروائیاں صرف میٹا کی سرکاری ویب سائٹ یا آفیشل ایپ کے ذریعے انجام دیں۔ اس کے علاوہ مشتبہ ای میلز کو فوری طور پر رپورٹ یا حذف کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے تاکہ سائبر فراڈ سے محفوظ رہا جا سکے۔

More News