سائنس دانوں کی بڑی کامیابی، پلاسٹک کے کچرے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کی نئی ٹیکنالوجی تیار
سائنس دانوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کچرے اور صاف توانائی کے حصول جیسے دو بڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے پلاسٹک کے فضلے کو صاف ہائیڈروجن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق الکیلین تھرمل ٹریٹمنٹ نامی یہ جدید طریقہ روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم درجہ حرارت پر زیادہ خالص ہائیڈروجن پیدا کرتا ہے، جبکہ پلاسٹک کو چھانٹنے اور صاف کرنے کی ضرورت بھی کم رہتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران براہِ راست گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اسے ماحول دوست ٹیکنالوجی قرار دیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی کے پروفیسر وو جے کِم کے مطابق استعمال شدہ پلاسٹک میں خوراک کے ذرات، لیبلز، رنگ اور دیگر کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی ری سائیکلنگ مہنگی اور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا تو یہ پلاسٹک کے کچرے میں کمی اور صاف توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔








