سانحہ پمز: قصوروار ثابت ہونے والے ہر شخص کو سزا دی جائے گی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر
اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور اگر کوئی بھی شخص قصوروار پایا گیا تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا عمران نے بتایا کہ آتشزدگی کے وقت نرسری کے آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا۔ ان کے مطابق عملے نے ہنگامی صورتحال میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی کوشش کی، جبکہ ایک ڈاکٹر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک نومولود بچے کی جان بھی بچائی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے اسپتال میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے کہا کہ ہسپتال میں تسلی بخش فائر سیفٹی سسٹم موجود ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کے باوجود واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جاسکے۔
رانا عمران کے مطابق نرسری میں 24 آکسیجن سلنڈر موجود تھے، جبکہ ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں کے دوران کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تحقیقات کی روشنی میں آئندہ کے لیے حفاظتی اقدامات مزید بہتر بنائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں اسپتال سے بچوں کے چوری ہونے کے واقعات سامنے آنے کے باعث نرسری میں داخلے کے حوالے سے پابندیاں اور محدود رسائی رکھی گئی تھی۔ انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی اور بچوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے نرسری میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ محدود رکھا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں صبح تقریباً 7 بجے آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔ واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے ملک میں غم و تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں آگ مبینہ طور پر ایئرکنڈیشن کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث لگی۔ آگ گائنی وارڈ کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر واقع نرسری میں لگی، جس کے بعد فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔
واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات اور کسی ممکنہ غفلت کے بارے میں حتمی طور پر تعین کیا جاسکے گا۔





