سانحہ پمز: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت، غفلت اور حفاظتی انتظامات پر بڑے سوالات اٹھ گئے
اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ملک کے نظامِ صحت اور اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کے بعد آگ لگنے کے وقت، ہنگامی ردعمل، فائر سیفٹی انتظامات اور ممکنہ غفلت سے متعلق کئی اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کے قریب چنگاری اٹھتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ 6 بج کر 39 منٹ پر لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ دوسری جانب پمز انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کا وقت 6 بج کر 45 منٹ بتایا گیا، جبکہ سی ڈی اے کو واقعے کی اطلاع 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی۔
اس وقت میں موجود فرق نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آگ لگنے کے بعد متعلقہ اداروں کو اطلاع دینے میں تاخیر کیوں ہوئی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ کار کیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں خرابی کے باعث لگی۔ اب یہ بھی تحقیقات کا حصہ بن گیا ہے کہ آیا کمپریسر میں پہلے سے کوئی خرابی یا ہیٹنگ کی شکایت موجود تھی اور اگر تھی تو اسے بروقت ٹھیک یا تبدیل کیوں نہیں کیا گیا۔
واقعے کے بعد اسپتال کے فائر سیفٹی سسٹم، ایمرجنسی انخلا کے منصوبے، عملے کی موجودگی اور نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مقررہ ایس او پیز پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے تحقیقات مکمل ہونے پر غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اب اصل توجہ اس بات پر ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل ہوتی ہیں یا ذمہ داری کسی ایک اہلکار تک محدود کردی جاتی ہے۔







