سندھ میں میڈیکل داخلوں کا بڑا اسکینڈل بے نقاب، انٹرمیڈیٹ نمبروں میں 100 تک اضافے کا انکشاف
سندھ میں ایم بی بی ایس کے داخلوں کے لیے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے نمبروں میں مبینہ ردوبدل کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا، جس کے بعد میڈیکل کالجز کے داخلہ میرٹ پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سندھ کی دو بڑی سرکاری میڈیکل جامعات، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی نے داخلوں کے لیے جمع کرائی گئی 53 مشکوک مارکس شیٹس کی نشاندہی کی ہے۔ ان مارکس شیٹس میں درج نمبروں اور تعلیمی بورڈ کے سرکاری گزٹ میں واضح فرق پایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں 43 جبکہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں 7 مشکوک مارکس شیٹس سامنے آئیں، جن کا تعلق مبینہ طور پر حیدرآباد تعلیمی بورڈ سے ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض امیدواروں کے نمبروں میں اسکروٹنی کے نام پر 50 سے 100 تک اضافہ کیا گیا، جس سے میرٹ لسٹ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ اسکروٹنی مبینہ طور پر اس وقت کی گئی جب بورڈ کے چیئرمین فقیر محمد لاکھو عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک موجود تھے۔
اس معاملے پر تعلیمی بورڈ کے طریقہ کار اور نمبروں میں تبدیلی کی منظوری دینے والے افسران سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دوسری جانب میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی بعض مارکس شیٹس میں بھی مبینہ ردوبدل کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اس اسکینڈل نے سندھ میں میڈیکل داخلوں کے شفاف نظام اور میرٹ کے تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے، جبکہ معاملے کی مکمل تحقیقات اور ریکارڈ کی تصدیق کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔








