سندھ میں 6 معروف ادویات کے 7 بیچز جعلی قرار، مؤثر اجزا موجود نہ ہونے کا انکشاف
سندھ میں چھ معروف ادویات کے سات بیچز کو جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری ادویات جانچنے والی تجربہ گاہ کی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ مختلف ادویات کے نمونوں میں اصل مؤثر اجزا موجود نہیں تھے، جس کے بعد متعلقہ دوا ساز کمپنیوں اور ادویات کی تیاری و ترسیل کے ذرائع کی جانچ پڑتال کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ادویات میں مؤثر اجزا کی عدم موجودگی مریضوں کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ ایسی ادویات استعمال کرنے سے مطلوبہ علاج متاثر ہو سکتا ہے۔ مریض بظاہر دوا استعمال کرنے کے باوجود بیماری سے صحت یاب نہ ہوں تو ان کی صحت کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اس انکشاف کے بعد متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ ادویات کی تیاری، معیار، پیکنگ اور تقسیم کے عمل کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ معلوم کرنا بھی اہم ہے کہ مشتبہ بیچز کن علاقوں اور میڈیکل اسٹورز تک پہنچے اور آیا ان کی فروخت تاحال جاری ہے یا نہیں۔
ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے دوا ساز کمپنیوں کی نگرانی، لیبارٹری ٹیسٹ اور سپلائی چین کی جانچ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جعلی یا غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
شہریوں کو چاہیے کہ ادویات مستند فارمیسیوں سے خریدیں، پیکنگ اور رجسٹریشن کی تفصیلات چیک کریں اور مشتبہ دوا کے استعمال یا فروخت سے متعلق متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ کسی دوا کے بارے میں شک کی صورت میں ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔
تاہم، متاثرہ چھ ادویات کے نام، سات بیچز کی شناخت، متعلقہ کمپنیوں اور سرکاری سطح پر جاری کیے گئے کسی باضابطہ الرٹ کی تفصیلات دستیاب معلومات میں شامل نہیں ہیں۔








