سونے کی اُڑان رک گئی، عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی
لندن: عالمی منڈی میں بدھ کے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی معاشی اعداد و شمار، مہنگائی کے رجحانات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی پر مرکوز رہی۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ روز تیزی سے بڑھنے والی قیمتوں کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع لینے کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں پر دباؤ دیکھنے میں آیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,035.67 ڈالر فی اونس تک آ گئی، جبکہ اگست ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچر 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 4,042.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں یہ کمی عارضی نوعیت کی ہو سکتی ہے کیونکہ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی سے متعلق مزید اشاروں کے منتظر ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل سونے کی قیمت میں دو فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور یہ 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا میں جون کے مہینے کے صارف قیمتوں کے اشاریے (CPI) سے متعلق مثبت معاشی اعداد و شمار تھے، جن سے ظاہر ہوا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کی رفتار نسبتاً سست ہوئی ہے۔ ان اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو امید دلائی تھی کہ امریکی مرکزی بینک مستقبل میں شرح سود سے متعلق نرم رویہ اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق امریکی اقدامات اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل مہنگا ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو اس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
او اے این ڈی اے (OANDA) کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے روایتی اشاریوں کو نہیں دیکھ رہے بلکہ خام تیل کی قیمتوں کو بھی مستقبل کی مانیٹری پالیسی کے لیے اہم عنصر سمجھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ فیڈرل ریزرو کو شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس سے سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے اعلیٰ حکام نے جون کے مہنگائی کے اعداد و شمار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ مہنگائی میں کمی حوصلہ افزا ہے، تاہم شرح سود میں کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ مزید معاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں سرمایہ کار اب پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے تازہ اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں، جن سے مستقبل کی مہنگائی اور امریکی مرکزی بینک کی پالیسی کے بارے میں مزید واضح اشارے مل سکتے ہیں۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔ تازہ اندازوں کے مطابق مارکیٹ نے اس امکان کو 58 فیصد تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس رپورٹ سے قبل یہ شرح 76 فیصد تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے معاشی اعداد و شمار بھی توقعات کے مطابق رہے تو فیڈرل ریزرو کی آئندہ حکمت عملی میں نرمی کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس کا براہ راست اثر سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر پڑے گا۔
دیگر قیمتی دھاتوں کی بات کی جائے تو عالمی منڈی میں چاندی کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 58.48 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس پلاٹینم کی قیمت میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,635.56 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ پیلیڈیم بھی 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,307.11 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی معاشی اشاریے، عالمی جغرافیائی صورتحال، خام تیل کی قیمتیں اور فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے قیمتی دھاتوں کی سمت کا تعین کریں گے۔ اسی لیے سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے قبل نئے معاشی اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں۔








