سونے کی چمک ماند پڑ گئی، عالمی منڈی میں قیمتیں نیچے آگئیں

سونے کی چمک ماند پڑ گئی، عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی

لندن: عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ اس ہفتے امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے متوقع شرحِ سود کے فیصلے پر مرکوز ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود سرمایہ کار فی الحال محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 0.8 فیصد کم ہوئی، جس کے بعد فی اونس سونے کی قیمت گھٹ کر تقریباً 4,040 امریکی ڈالر کی سطح پر آ گئی۔ اس کمی کے ساتھ گزشتہ کاروباری سیشن میں ہونے والا معمولی اضافہ بھی ختم ہو گیا اور سونا دوبارہ دباؤ کا شکار نظر آیا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی اجلاس کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ شرحِ سود سے متعلق فیصلے عالمی مالیاتی منڈیوں اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر شرحِ سود میں تبدیلی کی جاتی ہے یا مستقبل کی مالیاتی پالیسی سے متعلق سخت مؤقف اپنایا جاتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جون میں امریکا میں مہنگائی کی شرح توقعات سے کم رہی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس نے افراطِ زر سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں وقتی کمی آنے کے بعد محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے کی طلب میں بھی کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آ گئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں حالات دوبارہ کشیدہ ہوئے یا فیڈرل ریزرو کے فیصلے نے مارکیٹ کو حیران کیا تو سونے کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے۔ سرمایہ کار اس ہفتے ہونے والے اہم معاشی فیصلوں اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

More News