عازمین حج 2027 کے لیے پاسپورٹ تجدید میں بڑی سہولت، نئی حج پالیسی کی بھی منظوری
اسلام آباد: وزارت مذہبی امور کی درخواست پر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے عازمین حج 2027 کے لیے پاسپورٹ کی قبل از وقت تجدید کی خصوصی سہولت فراہم کر دی ہے، تاکہ حج کے خواہشمند افراد بروقت اپنی سفری دستاویزات مکمل کر سکیں اور درخواست جمع کرانے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق حج 2027 میں شرکت کے لیے ایسا پاکستانی پاسپورٹ لازمی ہوگا جو کم از کم 16 نومبر 2027 تک کارآمد ہو۔ اسی شرط کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر اور بیرونِ ملک تمام پاسپورٹ دفاتر کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ عازمین حج کی قبل از وقت پاسپورٹ تجدید کی درخواستیں وصول کریں اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ رولز کے تحت عازمین حج کو مقررہ مدت سے پہلے بھی پاسپورٹ کی تجدید کی اجازت ہوگی تاکہ وہ حج درخواست جمع کرانے کے مرحلے میں کسی قانونی یا انتظامی رکاوٹ سے محفوظ رہیں۔ حکام نے تمام شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ کی معیاد کا فوری جائزہ لیں اور اگر ضرورت ہو تو جلد از جلد تجدید کا عمل مکمل کر لیں۔
وزارت مذہبی امور نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ کارآمد پاکستانی پاسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہری کی حج درخواست قبول نہیں کی جائے گی، لہٰذا تمام درخواست گزار مقررہ تاریخ تک مؤثر پاسپورٹ اپنے پاس رکھیں۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے آئندہ چار برسوں کے لیے حج پالیسی 2027 تا 2030 کی بھی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ اجلاس میں وزارت مذہبی امور نے نئی پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلی مرتبہ ایک سال کے بجائے چار سالہ حج پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس کا مقصد انتظامی امور میں تسلسل، بہتر منصوبہ بندی اور حجاج کرام کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق حج کے خواہشمند افراد کو ہر سال نئی رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ایک مرتبہ رجسٹریشن کے بعد وہ 2030 تک کسی بھی سال حج کی ادائیگی کے لیے اہل رہیں گے۔ اسی رجسٹریشن کی بنیاد پر ترجیحی ویٹنگ لسٹ تیار کی جائے گی، جس سے شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہوگا۔
حکومت نے حج کے پورے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ رجسٹریشن، ادائیگی، شکایات کے اندراج، ان کے ازالے، نگرانی اور دیگر تمام مراحل جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ شرعی اصولوں کے مطابق حج سیونگ اسکیم متعارف کرائی جائے گی تاکہ شہری مرحلہ وار بچت کے ذریعے مستقبل میں حج کی ادائیگی کی بہتر مالی منصوبہ بندی کر سکیں۔
نئی حج پالیسی کے تحت سرکاری اور نجی حج اسکیموں کے لیے الگ کوٹہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ لانگ اور شارٹ حج پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ حجاج کرام کی لازمی تربیت، تکافل (اسلامی انشورنس)، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے مؤثر انتظامات اور معاونین حج کی تقرری مکمل میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ پاکستانی حجاج کو بہترین سہولیات اور معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔








