سپریم کورٹ آف پاکستان کا بچوں کے نان و نفقہ کے تعین سے متعلق بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ کا بچوں کے نان و نفقہ کے تعین سے متعلق اہم فیصلہ، نئے قانونی اصول طے

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کے تعین سے متعلق ایک اہم اور رہنما فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتیں نان و نفقہ مقرر کرتے وقت بچے کی حقیقی ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدنی، سماجی حیثیت اور دیگر خاندانی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھیں گی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ نچلی عدالتوں کے مقرر کردہ نان و نفقہ میں مداخلت صرف اسی صورت ممکن ہوگی جب فیصلہ واضح طور پر غیر معقول، من مانی یا قانون کے منافی ہو۔

یہ فیصلہ جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسما شاہین نواز کی جانب سے دائر اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنایا۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ نچلی عدالتوں نے تمام دستیاب شواہد، والد کی مالی حالت اور بچے کی ضروریات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد نان و نفقہ مقرر کیا، اس لیے اس میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

درخواست گزار شاہین نواز نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بچے کے والد بنگلہ دیش میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں منیجر ہیں اور معقول تنخواہ وصول کرتے ہیں، اس لیے نابالغ بچے کے لیے 40 ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ صرف آمدنی کا ایک پہلو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ والد پر عائد دیگر مالی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ متعلقہ والد اپنی پہلی شادی سے ہونے والے دو دیگر بچوں کی کفالت کا بھی ذمہ دار ہے، لہٰذا عدالتوں نے نان و نفقہ کا تعین کرتے وقت اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا۔ عدالت نے کہا کہ فیملی کورٹ اور بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے متوازن فیصلہ دیا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے محمد عمران باقر بنام مسما زرنین آرزو (PLD 2026 SC 170) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق ہر مقدمے میں بچے کے بہترین مفاد کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ عدالت کے مطابق باپ پر اپنی اولاد کی کفالت قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، تاہم اس ذمہ داری کا تعین والد کی مالی استطاعت اور بچے کی معقول ضروریات کے درمیان توازن پیدا کرتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق ڈسٹرکٹ جج نے نابالغ بچے کے لیے 30 ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ مقرر کیا تھا، جس میں ہر سال 15 فیصد اضافے کی بھی ہدایت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ نچلی عدالتوں نے تمام متعلقہ عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا، اس لیے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت مداخلت کی ضرورت نہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں خاندانی مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔ اس فیصلے سے نہ صرف نان و نفقہ کے تعین کے واضح اصول سامنے آئے ہیں بلکہ غیر ضروری اپیلوں اور طویل عدالتی کارروائیوں میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے بچوں کے حقوق کے تحفظ، والدین کی ذمہ داریوں اور انصاف کے تقاضوں کے درمیان ایک متوازن قانونی فریم ورک فراہم کیا ہے، جس سے فیملی کورٹس کو آئندہ ایسے مقدمات کے فیصلے کرنے میں واضح رہنمائی ملے گی۔

More News