سہیل آفریدی: تمام جمہوری راستے اپنائے، اب احتجاج پر مجبور ہیں
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرنے کی کوشش کی، تاہم مطالبات پر توجہ نہ دیے جانے کے باعث اب احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ عوامی اور جمہوری لوگ ہیں اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا، تاہم ان کی بات سنی نہیں جا رہی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جمہوری اور آئینی راستے اختیار کرنے کے باوجود مسائل حل نہ ہوں تو احتجاج آخری راستہ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے پرامن طریقے سے احتجاج کیا اور آئین انہیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ اگر پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی جاتی تو پھر آئین میں موجود اس حق کو ہی ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو لانگ مارچ کے لیے کارکن اور عوام پرامن طور پر نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کی گرفتاریوں کے ذریعے تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ بڑی تعداد میں لوگ لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں پرامن احتجاج پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ماضی میں بھی پرامن رہی ہے اور آئندہ بھی پرامن رہنے کا مؤقف رکھتی ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت عوامی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آئی ہے اور وہ اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آئینی و جمہوری طریقہ کار پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد اپنے مؤقف اور مطالبات کو سامنے لانا ہے۔
27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ لانگ مارچ میں شرکت اور اس کے انتظامات سے متعلق مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں سامنے آنے کا امکان ہے۔








