وزارت داخلہ کے نام پر کالے شیشوں کے جعلی اجازت ناموں کا انکشاف

وزارت داخلہ کے نام پر کالے شیشوں کے جعلی اجازت ناموں کا انکشاف

وزارت داخلہ کے نام پر گاڑیوں کے کالے شیشوں کے جعلی این او سیز اور اجازت نامے جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارت داخلہ نے جعلی اجازت نامے تیار کرنے اور جاری کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔

ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق چیف سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کو اس معاملے پر ضروری کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ حکام کو کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے نام پر جعلی دستاویزات استعمال کرنے یا گاڑیوں کے ٹنٹڈ شیشوں کے لیے غیر قانونی اجازت نامے جاری کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے شیشوں پر ٹنٹ یا کالے شیشے کے استعمال کے اجازت ناموں پر پابندی 31 مارچ 2013 سے عائد ہے۔ اس کے بعد ٹنٹڈ شیشوں کے استعمال کے لیے وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی نیا این او سی جاری نہیں کیا گیا۔

وزارت داخلہ کے مطابق بعض افراد مبینہ طور پر وزارت کے نام اور دستاویزات کو استعمال کرتے ہوئے جعلی اجازت نامے تیار کر رہے ہیں۔ ایسے اجازت ناموں کی بنیاد پر گاڑیوں کے شیشوں پر کالے یا ٹنٹڈ شیشے لگانے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دوسری جانب ٹنٹڈ شیشوں کے استعمال سے متعلق نئی پالیسی پر بھی کام جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کی ہدایت پر نئی پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس میں مخصوص حالات میں ٹنٹڈ شیشوں کے استعمال کی اجازت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔

مجوزہ پالیسی میں طبی اور سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اجازت دینے کے طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔ نظرثانی شدہ مسودہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو بھجوا دیا گیا ہے اور ان سے تجاویز اور آراء طلب کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں کی آراء موصول ہونے کے بعد پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ نئی پالیسی کے تحت یہ طے کیا جائے گا کہ کن مخصوص طبی یا سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر گاڑیوں کے شیشوں کو ٹنٹ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

حکام نے شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وزارت داخلہ کے نام پر جاری ہونے والے کسی بھی اجازت نامے کی تصدیق کیے بغیر اسے قانونی دستاویز تصور نہ کریں۔

More News