سہیل آفریدی کے کراچی دورے کے دوران شدید بدنظمی، پی ٹی آئی کارکنان میں لڑائی، صحافیوں سے کیمرے چھیننے کی کوشش
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے قافلے میں شامل کارکنان آپس میں الجھ پڑے، صحافی وقاص سلیم پر مبینہ حملے کی شکایت بھی سامنے آگئی
کراچی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے کراچی دورے کے دوران شدید بدنظمی کے مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں ان کے قافلے میں شامل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان آپس میں الجھ پڑے، جبکہ کوریج میں مصروف صحافیوں سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی کی گئی۔
دورے کے دوران ایک رپورٹر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ”یہ تربیت ہے آپ کے کارکنان کی؟“ رپورٹر نے سکھر میں آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے صحافی وقاص سلیم پر ہونے والے مبینہ حملے کی شکایت بھی وزیراعلیٰ کے سامنے رکھی۔
متاثرہ صحافی وقاص سلیم کے مطابق شکارپور میں وزیراعلیٰ کا قافلہ پہنچنے کے دوران کارکنان کے درمیان ہونے والی لڑائی کی ویڈیو بنانے پر ان پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا موبائل فون بھی ٹوٹ گیا۔
صحافی کا دعویٰ ہے کہ واقعے کی شکایت پروٹوکول افسر سے کی گئی تو مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صحافیوں سے مبینہ بدسلوکی اور واقعے پر جواب دینے کے بجائے منہ پھیر لیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران سرکاری پروٹوکول کے مبینہ بے جا استعمال پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ سے گزرنے والے قافلے میں سرکاری گاڑیاں شامل تھیں، جبکہ شکارپور سے پی ٹی آئی کارکنان کی واپسی کے بعد بھی وزیراعلیٰ نے بھاری سرکاری سکیورٹی کے ساتھ سفر جاری رکھا۔
سہیل آفریدی کا متنازع کراچی دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا کو سکیورٹی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور انتظامی معاملات سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
واقعے کے حوالے سے صحافیوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ صحافیوں سے مبینہ بدسلوکی اور سرکاری پروٹوکول کے استعمال سے متعلق الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔








