صبح صبح عالمی مارکیٹ سے بری خبر، خام تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

صبح صبح عالمی مارکیٹ سے بری خبر، خام تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ہفتوں میں پیٹرول، ڈیزل، گیس اور دیگر ضروری اشیائے صرف کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک پر مرتب ہوں گے۔

بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت جمعرات کے روز 6 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مئی کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اچانک اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات نے عالمی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بحیرہ احمر دنیا کی اہم تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی تک تیل کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل برآمدی راستوں پر بھی دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے تیل کی ترسیل مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر برطانیہ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ کے اختتام پر تقریباً 98 پنس فی تھرم رہنے والی قیمت بڑھ کر 150 پنس فی تھرم کے قریب پہنچ چکی ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین اور صنعتی شعبے کے توانائی اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر گیس اور تیل کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو یورپ میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جبکہ نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات خوراک، ادویات، تعمیراتی سامان اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عام شہریوں کی قوتِ خرید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ ڈھائی ہفتوں کے دوران پیٹرول کی اوسط قیمت 5 پنس فی لیٹر اضافے کے بعد تقریباً 1.56 پاؤنڈ جبکہ ڈیزل کی قیمت 1.72 پاؤنڈ فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکا میں بھی پیٹرول کی اوسط قیمت دوبارہ 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے، جو صارفین کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی نہ آئی اور عالمی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی منڈیوں پر آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

More News