صحت کے بعد کھیلوں کی سہولیات بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کے شعبے کے بعد کھیلوں کی سرکاری سہولیات بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔
محکمہ کھیل نے پشاور سپورٹس کمپلیکس اور حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کی انتظامی، عملیاتی اور دیکھ بھال کی ذمہ داریاں نجی اداروں کو دینے کے لیے پری کوالیفکیشن نوٹس جاری کردیا۔
نوٹس کے مطابق تجربہ کار، مالی طور پر مستحکم اور متعلقہ شعبے میں مہارت رکھنے والی کمپنیوں، کلبوں اور اداروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ منتخب ادارے کو ہاکی گراؤنڈ، جمنازیم، اسکواش اور ٹینس کورٹس، سوئمنگ پول، بیڈمنٹن، باسکٹ بال اور والی بال سمیت دیگر سہولیات کا انتظام سونپا جائے گا۔
یہ سہولیات ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیے نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی، جبکہ بہتر کارکردگی کی صورت میں معاہدے میں مزید پانچ سال کی توسیع بھی کی جاسکے گی۔
صوبائی حکومت کے مطابق اقدام کا مقصد کھیلوں کی سہولیات کا بہتر انتظام، معیاری دیکھ بھال اور کھلاڑیوں و عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔ تاہم ناقدین نے عوامی رسائی، فیسوں اور ملازمین کے مستقبل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر تین سو سے زائد ملازمین کے متاثر ہونے کے دعوے بھی زیر گردش ہیں، تاہم محکمہ کھیل کے سرکاری نوٹس میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی حکومت نے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔








