صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام تمام سفری پابندیوں کی فہرستوں سے خارج

صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام تمام سفری پابندیوں کی فہرستوں سے خارج

پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی، ایف آئی اے نے PCL، ECL اور PNIL سے نام خارج ہونے کی تصدیق کردی

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام پروفائل کنٹرول لسٹ (PCL) سمیت دیگر سفری پابندیوں کی فہرستوں سے خارج کیے جانے کے بعد توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔

درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی نے کی۔ سماعت کے دوران ڈائریکٹر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے اور صوبائی وزیر کے نام سے متعلق تازہ صورتحال سے عدالت کو آگاہ کیا۔

سرکاری حکام نے عدالت کو بتایا کہ مینا خان آفریدی کا نام پروفائل کنٹرول لسٹ (PCL) سے خارج کردیا گیا ہے، جبکہ دیگر متعلقہ سفری پابندیوں کی فہرستوں سے بھی ان کا نام نکال دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت صوبائی وزیر کا نام کسی بھی سفری پابندی کی فہرست میں موجود نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مینا خان آفریدی صوبائی وزیر ہیں اور انہیں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دعوت موصول ہوئی ہے۔ وکیل کے مطابق اس سے قبل جب عدالت سے رجوع کیا گیا تھا تو وفاقی حکومت نے بتایا تھا کہ ان کا نام نیشنل پولیس امیگریشن لسٹ (PNIL) میں شامل ہے، جبکہ دیگر فہرستوں میں نام موجود نہیں تھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے مینا خان آفریدی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، تاہم اس کے باوجود انہیں ایئرپورٹ پر روک دیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے معاملے پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے درخواست گزار کی جانب سے جرمنی جانے کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ اب برطانیہ جانے کی بات کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ جانے کے حوالے سے کوئی دستاویز عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔

اس پر وکیل بشیر خان وزیر نے وضاحت کی کہ ابتدا میں جرمنی جانے کا پروگرام تھا، تاہم بعد میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دعوت موصول ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مینا خان آفریدی صوبائی وزیر ہیں اور انہیں بیرون ملک سفر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔

ایف آئی اے حکام نے دوبارہ عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ مینا خان آفریدی کا نام PCL، ECL، PNIL یا کسی بھی دوسری متعلقہ فہرست میں موجود نہیں۔

سرکاری حکام کی جانب سے تمام سفری پابندیوں کی فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کی تصدیق کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر کی توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔

More News