طویل مشاورت کے بعد آٹو پالیسی مرتب کی گئی ہے، مشیر ہارون اختر
مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کہا ہے کہ حکومت نے طویل مشاورت اور متعلقہ شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی آٹو پالیسی مرتب کی ہے۔ پالیسی کا مقصد پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور مقامی صنعت کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
ہارون اختر کے مطابق نئی آٹو پالیسی کی تیاری کے دوران گاڑیوں کے مینوفیکچررز، آٹو پارٹس تیار کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کی گئی تاکہ صنعت کی ضروریات اور صارفین کے مفادات کو یکجا کیا جا سکے۔
نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-31 کے مجوزہ خدوخال میں مقامی سطح پر گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی تیاری بڑھانے، صنعت میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دی گئی ہے۔
پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور آٹوموبائل سیکٹر کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ حکومت کا مقصد مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانا اور پاکستان کو آٹو موبائل برآمدات کے شعبے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔








