ملاکنڈ ڈویژن میں امن کی بحالی تک ٹیکس نہیں لگنا چاہیے، وفاقی وزیر امیر مقام
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے سوات میں جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں امن کے قیام اور مکمل بحالی تک عوام پر ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور خیبرپختونخوا کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور علاقے کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ وہ ملاکنڈ کے عوام کے ٹیکس سے متعلق مقدمے کو بھی بھرپور انداز میں لڑیں گے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ فوجی جوانوں نے ہر مشکل اور قدرتی آفت میں عوام کا ساتھ دیا، جبکہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی سیکیورٹی فورسز نے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادکاری اور امن کی مکمل بحالی تک خاکی وردی میں ملبوس اہلکار عوام کے ساتھ رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فوج نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان اپنے سے بڑے ملک کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی نیت صاف ہے اور ملاکنڈ ڈویژن کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے بعد عوام کی امیدیں بڑھی ہیں، صوبے میں احتساب کے ساتھ عملی ترقیاتی کام بھی ضروری ہیں۔ پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے 160 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں کیونکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار پولیس ہی ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن کے قیام کے لیے پولیس کو مزید مستحکم کرنا ہوگا اور اسے سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھنا ضروری ہے۔








