عالمی منڈی میں آج پھر تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں،صبح صبح بری خبر آگئی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر، عالمی معیشت پر نئے دباؤ کا خدشہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں، مہنگائی اور معاشی دباؤ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سپلائی کے ممکنہ تعطل نے خام تیل کی قیمتوں کو کئی ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔

تازہ ترین عالمی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت چھ ہفتوں میں پہلی مرتبہ 95 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 86 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ قیمتوں میں اس اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں اور توانائی سے وابستہ شعبوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ایندھن، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کی لاگت کو متاثر کرتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خطے میں جاری حملوں اور ممکنہ فوجی کارروائیوں نے عالمی منڈی میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر تیل پیدا کرنے والے اہم خطوں میں سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی دستیابی کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سپلائی چین پہلے ہی مختلف جغرافیائی تنازعات اور شپنگ اخراجات میں اضافے کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں اگر مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو نہ صرف خام تیل بلکہ دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے ممالک میں درآمدی بل بڑھنے، مقامی کرنسی پر دباؤ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور بجلی کی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت عالمی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ آئندہ چند روز میں ہونے والی پیش رفت عالمی تیل منڈی کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو قیمتوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔

دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل توانائی ذرائع، اسٹریٹجک ذخائر اور سپلائی چین کو مستحکم بنانے کے اقدامات تیز کریں تاکہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو ایک بار پھر دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے، اور آئندہ چند ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

More News