عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالرز سے زائد اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالر سے زائد اضافہ

اسلام آباد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) دونوں کی قیمتیں 2 ڈالر سے زائد بڑھ گئیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی اور عالمی طلب میں بہتری کی توقعات نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سرمایہ کاروں کی گہری نظر برقرار ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع کمی کے بعد عالمی منڈی میں خریداری کا رجحان بڑھا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذخائر میں کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ توانائی کی طلب اب بھی مضبوط ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم تازہ تجارتی سیشن کے دوران مارکیٹ کا رجحان تبدیل ہوا اور قیمتیں دوبارہ تیزی سے اوپر چلی گئیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 2.71 ڈالر یا 3.2 فیصد اضافے کے بعد 86.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 2.26 ڈالر یا 3.4 فیصد اضافے کے بعد 81.95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتی رہی۔

معاشی ماہرین کے مطابق عالمی توانائی مارکیٹ اس وقت کئی عوامل سے متاثر ہو رہی ہے، جن میں امریکی ذخائر، اوپیک پلس کی پیداوار سے متعلق پالیسیاں، عالمی اقتصادی سرگرمیاں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔ ان عوامل میں معمولی تبدیلی بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو دنیا کے مختلف ممالک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار آئندہ دنوں امریکی ذخائر کے مزید اعداد و شمار اور عالمی سیاسی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل مستقبل میں تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کریں گے۔

More News